دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اس خبر کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کردیا۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے ہی اس اقدام کا فیصلہ کیا تاکہ عالمی برادری کو یہ پیغام پہنچ جائے کہ گولان سے اسرائیلی انخلاء کا حال یا مستقبل میں ہر گز کوئی آپشن نہیں ہے۔
گزشتہ چند روز کے دوران یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ شام میں جاری تنازع کے کسی بھی حل میں گولان کے علاقے کو بھی شامل کیا جانا چاہیے جس پر اسرائیل نے 1967ء کے جنگ میں قبضہ کرلیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق شام کےنائب وزیرخارجہ فیصل مقداد نے اپنی گفتگو میں صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتنیاہو کے جولان کے علاقے کے بارے میں دئے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ شام کی ملکیت ہے اور شام کاہی حصہ ہے – انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق یہ ایک مقبوضہ علاقہ ہے جو درحقیقت شام کی ملکیت ہے- شام کے نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ جولان کے علاقے میں اقوام متحدہ کے فوجیوں کی موجودگی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک مقبوضہ علاقہ ہے – ان کا کہنا تھا کہ شام صیہونی حکومت کی تسلط پسندی کے مقابلے میں اپنی استقامت جاری رکھے گا اور اس کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گا – واضح رہے کہ صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتنیاہو نے اتوار کو اپنی کابینہ کے اجلاس میں عالمی برادری سے کہا کہ وہ جولان پر اسرائیل کے قبضے کو تسلیم کر لے – نتن یاہو نے ایک اشتعال انگیز اقدام کے تحت اپنی کابینہ کا اجلاس مقبوضہ جولان میں کیا تھا- اسرائیل نے انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں جولان پر قبضہ کیا تھا- صیہونی حکومت کے وزیراعظم نے جولان کے مقبوضہ علاقے میں اپنی کابینہ کا یہ جلاس ایک ایسے وقت کیا ہے جب جولان سے پیچھے ہٹنے کے لئے عالمی برادری کا ان پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے- خیال کیا جاتا ہے کہ اگر شام سے متعلق جنیوا مذاکرات کا کوئی نتیجہ نکلتا ہے تو اس میں جولان سے اسرائیل کی عقب نشینی کا بھی مطالبہ شامل ہوگا۔
