فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز فلسطین، ترکی، ملائیشیا، اردن، پاکستان، بنگلہ دیش، مصر، لبنان، ایران، ہندوستان،امریکا، برطانیہ، یورپی اور ایشیائی ممالک سمیت دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں جب کہ مظاہرین کی جانب سے امریکی اقدام کے خلاف شدید نعرے بازی کے ساتھ ساتھ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد عرب اورمسلمان ممالک میں مظاہروں میں شرکاء نے امریکی صدر ٹرمپ کے پتلے اور تصاویر بھی نذرآتش کیں۔
جمعہ کے روز پوری دنیا میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے 521 مظاہرے کیے گئے۔ ان میں ترکی میں 132 مقامات پر فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے ہوئے۔ اس کے علاوہ امریکی ریاستوں میں 91 مقامات پر احتجاج کیا گیا۔ یورپی ملکوں میں جرمنی، فرانس اور دیگر ممالک میں فلسطینیوں اور القدس کی نصرت کے لیے جلوس نکالے گئے۔
ترکی کے دارالحکومت استنبول میں سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ مسجد سلطان محمد فاتح کے باہر نکالا گیا۔ اس کے علاوہ ترکی کے کئی شہروں میں القدس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جلوس نکالے گئے۔
مسلمان ممالک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے القدس کے بارے میں اعلان کو مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا۔ مقررین نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف جہاد شروع کرنے اور فلسطینیوں کو آزادی کے حصول کے لیے ہرممکن مدد فراہم کرنے پر زور دیا۔
ملائیشیا میں سب سے بڑا جلوس کولالمپور میں نکالا گیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم، ٹرمپ کی تصاویر اور القدس کی حمایت پر مبنی نعروں پر مشتمل بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے۔ احتجاجی مظاہروں میں ملائیشیا کے وزراء اور حکمراں جماعت کے سینیر رہ نما بھی شریک تھے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں کل زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے اور احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔
پاکستان کے متعدد شہروں میں نصرت القدس جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں۔ امریکی صدر کے القدس کے حوالے سے اعلان کے خلاف پاکستان کےشہروں کراچی، لاہور، پشاور، اسلام، آباد،راولپنڈی میں احتجاجی مظاہرے کئےگئے۔ پاکستان میں جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی اپیل پر ہزاروں افراد نے فلسطینیوںÂ اور القدس کی حمایت میں شرکت کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے قائدین کو اور اسرائیل اس کے پٹھو امریکا کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
