رپورٹ کے مطابق انسداد معاشی ناکہ بندی کمیٹی کے چیئرمین جمال الخضری میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی ناکہ بندی کا بہترین حل سمندر کے کنارے ایک بندرگاہ کا قیام یا عالمی بحری راہ داری کا قیام ہے۔ دس سال سے اسرائیل کی مسلط کردہ معاشی بندیوں کے خاتمے کے لیے غزہ میں بندرگاہ کا قیام ضروری ہے۔
فلسطینی پارلیمنٹ نے بعض سیاسی جماعتوں بالخصوص تحریک فتح کی جانب سے غزہ میں بندرگاہ کے قیام کی مخالفت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ غزہ میں بندرگاہ کے قیام کی مخالفت کرنے والے غزہ کے دو ملین افراد کی معاشی ناکہ بندیوں کے حامی ہیں۔
خیال رہے کہ ان دنوں غزہ کی پٹی میں بندرگاہ کے قیام کے لیے بات چل رہی ہے۔ اگرچہ اسرائیل نے غزہ میں بندرگاہ کے قیام کی مخالفت کی ہے۔ غزہ میں بندرگاہ کے قیام کی مخالفت کرنے والوں میں صدر محمود عباس کی جماعت تحریک فتح کے سرکردہ رہنما بھی شامل ہیں۔
