امریکی عدالت نے 11 سال سے قید61سالہ فلسطینی پروفیسر اور دانشور ڈاکٹر عبدالحلیم الاشقر کو رہا کرنے کے بعد فوری طور پر مُلک چھوڑں نے کا حکم دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پروفیسر الاشقر کےخاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی عدالت نے رہائی کے بعد عبدالحکیم الاشقر کو فوری طور پرملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
61سالہ فلسطینی پروفیسر کو ورجینیاکی جیل میں قید رکھا گیا ہے ،پروفیسر کو 2003ء میں اسلامی تحریک مزاحمت’حماس’ کے ساتھ تعاون اور جماعت کےلیے فنڈنگ کے الزام میں اس وقت گرفتار کیا گیاجب وہ امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ تھے تاہم انہیں اس کے بعد رہا کرکے گھر پرنظربند کردیا گیا تھا ، سنہ 2007ء کو انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور ان پر حماس سے تعلق کےالزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔
حال ہی میں اس وقت عالمی سطح پر ایک نئی تشویش کی لہر اس وقت دوڑ گئی تھی جب یہ خبریں آئیں کہ امریکا فلسطینی سائنسدان کو اسرائیل کے حوالے کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ اس پر فلسطینی اور عالمی انسانی حقوق کے حلقوں کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ پروفیسر الاشقر کے خاندانی ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکا میں قید کی سزا پوری کرنے کے بعد ایک خصوصی طیارہ پروفیسر الاشقر کو اسرائیل لے جائے گا جبکہ فلسطینی پروفیسر نے بتایاکہ امریکی خفیہ اداروں نے جاسوسی کے لیے اس کے پائوں کے ساتھ "GPS” سسٹم نصب کررکھا ہے جو ان کی نقل و حمل اور تمام سرگرمیوں سے ان کو آگاہ رکھے گا ۔
سنہ 1958ء کو غرب اردن کے شہر طولکرم میںپیدا ہونے والے فلسطینی عبدالحلیم الاشقر لبنان، امریکا، یونان اور کئی دوسرے ملکوں کی جامعات سے فارغ التحصیل ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت سمجھے جاتےہیں۔ وہ امریکا کی مختلف جامعات میں پڑھاتے رہےہیں۔ گرفتاری سے قبل وہ سے وابستہ تھے۔
