فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سلامتی کونسل کے فلسطین سے متعلق خصوصی اجلاس کے دوران یواین سیکرٹری جنرل کے معاون برائے Â سیاسی امور’میرو سلاو جینکا‘ نے کہا کہ جولائی میں بیت المقدس کو متحد کرنے سے متعلق اسرائیلی کنیسٹ سے منظور کردہ قانون اپنے نتائج کے اعتبار سے انتہائی خطرناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ القدس کے مشرقی اور مغربی حصوں کو یکجا کرنے سے اسرائیل کو مشرقی بیت المقدس میں مزید صہیونی آباد کاری کا جواز ملے گا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) کی آئینی کمیٹی نے وزیر تعلیم نفتالی بینٹ کے تیار کردہ آئینی بل کی منظوری دی ہے جس میں تجویز دی گئی ہے کہ مستقبل میں القدس کی تقسیم کے لیے پارلیمنٹ کے کم سے کم 80 ارکان کی حمایت ضروری قرار دی جائے۔
مقبوضہ بیت المقدس کے مغربی حصے پر اسرائیل نے سنہ 1948ء کے دوران قبضہ کیا جب کہ مشرقی حصے پر اسرائیلی تسلط 1967ء کی عرب۔ اسرائیل جنگ کے دوران جمایا گیا۔ اسرائیل القدس کے ان دونوں حصوں کو باہم متحد کرتے ہوئے مشرقی بیت المقدس کے بارے میں فلسطینیوں کا خواب چکنا چور کررہا ہے، جس کے بارے میں آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
اگر القدس کے کچھ علاقے فلسطینیوں کے حوالے کیے جانا ہیں تو نئے قانون کے تحت اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ کے 80 ارکان کی حمایت ضروری ہوگی جب کہ موجودہ قانون کے تحت 61 ارکان کی حمایت کافی ہے۔
جیوش ہوم کے لیڈر اور وزیر تعلیم نفتالی بینٹ کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ کے دور میں القدس دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہوتے بچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر القدس تقسیم ہوجاتا تو یہ بہت بڑا المیہ ہوتا۔ یہ مسودہ قانون مستقبل میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی امن معاہدے کی صورت میں القدس کی تقسیم کو روک دے گا۔
فلسطینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مشرقی بیت المقدس سے دست بردار نہ ہونے کی اسرائیلی کوششیں اور القدس کو یکجا کرنے کے لیے قانون سازی تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کی کوششوں سے فرار اختیار کرنے کے مترادف ہے‘۔
