قاہرہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) عرب لیگÂ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے اعلان کی ایک بار پھر شدید مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا خطے میں قیام امن کی مساعی کوتباہ کرنے کی کوشش ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کی شام قاہرہ میں عرب لیگ کے وزراء خارجہ پر مشتمل ایک اہم جلاس ہوا جس میں القدس کو اسرائیل کا صدر مقام تسلیم کرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور اس کے مضمرات کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا کہ امریکا کی طرف سے فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد کی بندش اور القدس کو اسرائیل کے حوالے کرنے کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے جن کی تمام تر ذمہ داری امریکا پرعاید ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا کہ امریکا نے مشکل وقت میں لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی کفالت کرنے والے ادارے ’اونروا‘ کی امداد منجمد کی ہے۔ امریکی حکومت کا یہ اقدام ناقابل قبول ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کی طرف سے فلسطینی پناہ گزینوں کی مالی امداد بند کرنے سے قضیہ فلسطین کے حوالے سے واشنگٹن کے طرز عمل بارے مزید شکوک وشبہات پیدا ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا ہے کہ امریکا کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کے بعد امریکی حکومت غیرجانب دار ثالث نہیں رہا ہے۔
عرب لیگ کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی طرف سے فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد میں کمی کے دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس طرح کے اقدامات سے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان بات چیت کے امکانات مزید متاثر ہوسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے ذمہ دار ادارے’اونروا‘ کی 65Â ملین ڈالر کی امداد کم کردی ہے۔ امریکا اونروا کو سالانہ صرف 60 ملین ڈالر کی رقم ادا کرے گا۔
