مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی وزیراعظم بنجم نیتن یاھو اپنی تمام تر لاپرواہی اور ہٹ دھرمی کے باوجود کرپشن کے الزامات سے جان نہیں چھڑا سکے ہیں۔ بعض الزامات سائے کی طرح ان کے ساتھ ساتھ ہیں۔ ان میں رشوت خوری اور امانت میں خیانت دو ایسے سنگین الزام ہیں جن کے نتیجے میں نیتن یاھو کو پانچ بار باز پرس سے گذرنا پڑا ہے۔ نامعلوم ابھی انہیں مزید کتنی بار ان الزامات کی صفائی پیش کرنا ہوگی۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی پولیس نے گذشتہ روز ’کرپشن کیس 1000‘ اور کرپشن کیس 2000 کے حوالے سے وزیراعظم کی رہائش گاہ پران سے پوچھ تاچھ کی۔
پولیس نے نیتن یاھو سے سوال جواب کےدوران کرپشن کیس 1000 کے عینی شاہد اور تاجر ارنون ملیچن کے بیانات کا بھی حوالہ دیا۔
تفتیش کئی گھنٹے تک جاری رہی۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
خیال رہے کہ پولیس کو شبہ ہے کہ نیتن یاھو نے کاروباری شخصیات جن مین ملیچین بھی شامل ہے سے بیش قیمت تحائف وصول کیے جن کی مالیت ہزاروں ڈالرز میں ہے۔
اس سے قبل اگست میں پولیس نے نیتن یاھو کے خلاف امانت میں خیانت کرنے کے مقدمہ کے لیے تفتیش کی تھی۔
