نئی دہلی (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صیہونی حکومت کے وزیراعظم نیتن یاہو ایک ایسے وقت ہندوستان کے دورے پر ہیں جب ان کے اس دورے کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں شدید احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہندوستان کے چھے روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچے صیہونی حکومت کے وزیراعظم نیتن یاہو کا پیر کو ایوان صدر میں استقبال کیا گیا۔ہندوستان اور صیہونی حکومت کے وزرائے اعظم نے اپنی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔
نیتن یاہو کے دورہ ہندوستان کے موقع پر ہندوستان اور اسرائیل نے فوجی اور خلائی شعبوں سمیت مختلف میدانوں میں نو سمجھوتوں پر دستخط کئے۔
اس درمیان ہندوستان کی مختلف مسلم اور غیر مسلم تنظیموں نے صیہونی حکومت کے وزیراعظم نیتن یاہو کے دورہ ہندوستان کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے کئے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کو ہندوستان کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ گاندھی کے ملک میں، جنھوں نے امن و بھائی چارے کی بات کی ہے، غاصب ریاست کے وزیراعظم کو، جو فلسطینیوں کا قاتل ہے، دورے کی دینا ہندوستانی تہذیب سے تضاد رکھتا ہے۔
ہندوستان کی مسلم اور غیر مسلم تنظیموں کے کارکنوں اور شہریوں نے دارالحکومت نئی دہلی میں متعدد مظاہرے کر کے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت ہندوستان نیتن یاہو کے دورہ ہندوستان کو منسوخ کرے۔
اس موقع پر ہندوستان کے مختلف شہروں میں نیتن یاہو کے پتلے کو بھی نذرآتش اور فلسطینیوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا گیا- شیعہ و سنی علما اور مذہبی رہنماؤں نے بھی کہا کہ غاصب اسرائیل مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے اس کو ہندوستان کو دورے کی اجازت دینا ہندوستانی تہذیب کے منافی ہے۔
ہندوستان کی بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی پیر کو نئی دہلی کے انڈیا گیٹ پر نیتن یاہو کے دورہ ہندوستان کے خلاف مظاہرہ کیا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف مظاہرے کی کال سی پی آئی، سی پی ایم اور سوشلسٹ یونیٹی سینٹر نے کیا تھا۔
دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندرمودی کے ذریعے پروٹول کے برخلاف نیتن یاہو کا استقبال کرنے پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو کو گلے لگانے کے مودی کے انداز کا مذاق بھی اڑایا۔
