فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سابق سوویت یونین کے دور کے ریکارڈ سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ روسی خفیہ ادارے’کے جی بی‘ کے ایجنٹ اسرائیل میں سرگرم تھے۔ روسی جاسوسوں کا نیٹ ورک نہ صرف عام لوگوں پر مشتمل تھا بلکہ اس میں اسرائیلی فوج کے سینیر افسران، پارلیمنٹ کے ارکان اور انجینیر بھی شامل تھے جو منظم انداز میں روس کے لیے جاسوسی کرتے تھے۔
نامہ نگار نے سنہ 1992ء میں مغرب کی طرف چلے جانے والے ’کے جی بی‘ کے سابق کرنل اور خفیہ ریکارڈ کےمحافظ فاسیلی میتروخین کا حوالہ دیا ہے اور انہی کے قبضے میں موجود دستاویزات سے پتا چلا ہے کہ ماضی میں روس نے اسرائیلیوں کو جاسوسی کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کیا ہے۔
کرنل میتروخین نے انکشاف کیا ہے کہ ہزاروں ایسے ناموں کی تصدیق ہوئی تھی جن کے بارے میں پتا چلا تھا کہ وہ دنیا بھر میں پھیلے روسی جاسوسی نیٹ ورک سے وابستہ ہیں۔ یہ راز اس سے قبل سنہ 2014ء میں برطانیہ کی کیمرج یونیورسٹی بھی منکشف کرچکی ہے۔
رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’کے جی بی‘ کی خفیہ دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ سابق سوویت یونین کے سراغ رساں اداروں کے اسرائیل کے ریاستی اداروں میں گہرے مراسم تھے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے جاسوس سیاسی جماعتوں میں بھرتی کرانے، فوج اور پارلیمنٹ تک پہنچانے میں کامیاب تھے۔ سنہ پچاس کی دہائی میں اسرائیل کی ایک سخت گیر مذہبی جماعت ’مابام‘ نے روس کے لیے جاسوسی کا پلیٹ فارم مہیا کیا تھا۔ یہ جماعت سوویت یونین کی حامی سمجھی جاتی تھی۔
اگرچہ اسرائیلی فوج اور پارلیمنٹ کے ان جاسوسوں کی شناخت نہیں کی گئی تاہم دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ کے جی بی تین اسرائیلی ارکان پارلیمنٹ کو اپنے جاسوس بنانے میں کامیاب رہی تھی۔ ان میں سے ایک کا فرضی نام ’گرانٹ‘ بتایا گیا ہے۔
میٹروخین کا کہنا ہے کہ جس جاسوس کا نام ’گرانٹ‘ بتایا گیا ہے اس کا اصل نام ’’الیعازر گرانوٹ‘ تھا جو سنہ 1960ء کے عشرے میں ’’مابام‘‘ جماعت کا مرکزی رہ نما تھا اور سنہ 80ء میں پارلیمنٹ کا رکن بنا اور 2013ء میں انتقال کیا۔ تاہم گرانوٹ کے صاحبزادے ڈان گرانونٹ نے عبرانی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ میں اپنے والد کے روسی جاسوس ہونے کے دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔
