مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاں جنگی قیدی بنائے گئے فوجی ابراہام منگیسٹو کے اہل خانہ نے صہیونی حکومت پر ان کے خلاف نسلی امتیاز برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز تل ابیب میں ایک ہزار یہودی آباد کاروں نے ابراہیم منگیسٹو اور دیگر یرغمالی فوجیوں کی رہائی کےحق میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں شریک یہودی آباد کاروں نے حکومت پر ابراہام منگیسٹو کے معاملے میں نسل امتیاز برتنے کا الزام عائد کیا۔عبرانی نیوز ویب پورٹل ’’وللا‘‘ کے مطابق یہ احتجاجی مظاہرہ ایتھوپیائی نژاد یہودی فوجی ابراہام منگیسٹو کو یرغمال بنائے جانے کے Â ایک ہزار دن پورے ہونے کی مناسبت سے کیا گیا۔
مظاہرین نے اسرائیلی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور کہا حکومت ابراہام کی رہائی کے لیے سنجیدہ کوششیں نہ کرکے سیاہ فام نسل کے خلاف نسلی امتیاز کی ظالمانہ پالیسی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ اسرائیلی حکومت ملک میں آباد سیاہ فام یہودی نسل کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔ ورنہ ابراہام منگیسٹو کو آج تک رہا کیا جا چکا ہوتا۔
ادھر اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں آنے والی دوسری رپورٹس میں بھی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور صدر روف ریفلین پر مینگسٹو کیس میں لا پرواہی برتنے کا کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ اور عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے دوران غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے فوجیوں کے معاملے پر کوئی بات نہیں اور نہ ہی یہ معاملہ امریکی صدر کے سامنے پیش کیا گیا۔
