مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل میں کیے گئےایک تازہ سروے کے مطابق ملک کے مذہبی گروپوں اور دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی عوامی مقبولیت میں غیرمعمولی کمی آئی ہے۔ اس کے برعکس بائیں بازو کے لبرل اور اعتدال پسند حلقوں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ سروے عبرانی ٹی وی 10 کی جانب سے کیا گیا۔ سروے کے نتائج پر مبنی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکمراں جماعت ’لیکوڈ‘ کی عوامی پذیرائی میں کمی آئی ہے جب کہ بائیں بازو اور معتدل حلقوں کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔سروے کے مطابق موجودہ حالات میں اگر اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو لبرل اور اعتدال پسند سیاسی جماعتیں صہیونیت کیمپ، فیوچر پارٹی، میرٹز اور عرب اتحاد مل کر 61 نشستیں جیت سکتے ہیں۔
سروے کے مطابق آئندہ انتخابات میں نیتن یاھو کی جماعت لیکوڈد 26 نشستیں جیت سکتی ہے۔ اس وقت لیکوڈ کی نشستوں کی تعداد 30 ہے۔ فیوچر پارٹی کی نشستوں کی تعداد11Â سے بڑھ کر 22 تک جاسکتی جب کہ صیہونیت کیمپ کو 19 نشستیں مل سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 1992ء کے بعد اسرائیل میں کوئی لبرل قوت اقتدار میں نہیں آسکی۔ پچیس سال میں یہ پہلا موقع ہے جب صیہونی ریاست میں عوام کی جانب سے مذہبی جماعتوں کے بجائے اعتدال پسند اور بائیں بازو کے حلقوں کی حمایت سامنے آئی ہے۔
