پیرس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فرانس نے کل منگل کو اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جیل میں بندÂ سرکردہ فلسطینی رہنماؤں اور دیگر قیدیوں سے فرانسیسی حکومتی عہدیداروں کو رسائی اور ملاقات کی اجازت فراہم کرے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فرانسیسی وزارت خارجہ کی ترجمان انیاس روماتیہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل فرانسیسی ارکان پارلیمان اور دیگر عہدیداروں کو تحریک فتح کے اسیر رہنما مروانÂ البرغوثی سمیت تمام دیگراہم محروسین ملاقات کا موقع فراہم کرے۔انہوں نے کہا کہ چاہے اسرائیل ہو یا دنیا کا کوئی دوسرا ملک، فرانسیسی عہدیدار جہاں جانا چاہتے ہیں انہیں اس کی اجازت ملنی چاہیے۔
ادھر اسرائیل کے داخلی سلامتی کے وزیر گیلاد اردان نے کہا ہے کہ اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والے ملکوں کے مندوبین کو مروان البرغوثی جیسے اسرائیل کے خلاف ’دہشت گردی‘ پر اکسانے والےعناصر سے ملاقات کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
فرانس کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان اور دیگر عہدیداروں نے 18 سے 23 نومبر تک اسرائیل اور فلسطین کے دورے کا عزم کیا ہے۔ وہ اسرائیلی جیلوں میں قید چھ ہزار سے زاید فلسطینی قیدیوں کے حالات کےبارے میں جانکاری کے حصول کے لیے جیلوں کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔
فرانسیسی وفد 23 اگست سے پابند سلاسل فرانسیسی نژاد فلسطینی وکیل صلاح حموری سے بھی ملنا چاہتا ہے۔ حموری کو اسرائیلی حکام نے انتظامی حراست کے تحت پابند سلاسل رکھا ہوا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں 6500 فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ ان میں کئی سرکردہ فلسطینی رہنما بھی شامل ہیں۔
