خیال رہے کہ اونروا کی جانب سے عالمی برادری سے امداد کی یہ اپیل ایک ایسے وقت میں کی ہے ایجنسی پر الزام ہے کہ اس نے پناہ گزینوں کی فلاح بہبود کے کئی منصوبوں کو محدود کرنا شروع کردیا ہے جس کے باعث شہریوں کو پناہ گزینوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ غزہ کی پٹی میں موجود پناہ گزینوں کی امداد کم کرنے کے بعد اونرا نے لبنان میں مقیم فلسطینیوں کے کئی طبی منصوبے بند کردیے ہیں۔ جس کے نتیجے میں متعدد افراد علاج کی سہولت سے محروم رہتے ہوئے جاں بحق ہوچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اونروا کی جانب سے جمعرات کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شام میں مقیم پناہ گزین وہاں پر جاری خانہ جنگی کے باعث بے گھر ہیں۔ شام میں گھروں سے محروم ہونے والے فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد 4 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ ہے جب کہ 95 فی صد پناہ گزین عالمی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں مقیم 8 لاکھ 30 ہزار فلسطینی پناہ گزین سنگین مالی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ غزہ میں پناہ گزینوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ سنہ 2000 ء سے قبل غزہ میں پناہ گزینوں کی تعداد 80 ہزار تھی جب کہ اب یہ تعداد بڑھ کر آٹھ لاکھ تیس ہزار تک جا پہنچی ہے۔
