عبرانی اخبار نے اپنی اتوار کے روز کی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی امداد میں اضافے کے لیے ہونے والے مذاکرات مکمل ہونے کے بعد صہیونی ریاست کو کم سے کم آٹھ سو ملین ڈالر کی اضافی فوجی امداد دینے پر آمادی ظاہر کی ہے۔ اس امداد کے بعد امریکا کی جانب سے اسرائیل کو سالانہ دی جانے والی فوجی امداد 4 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے اپنی دیرینہ معاون اور اتحادی امریکا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ صہیونی ریاست کو آئندہ دس سال تک ساڑھے چار ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرے۔ تاہم واشنگٹن نے تجویز پیش کی تھی کہ وہ ساڑھے چار کے بجائے چار ارب ڈالر کی امداد فراہم کرے گا۔
امریکا کی جانب سے 800 ملین ڈالر کی رقم دراصل اسرائیل کی امریکا کو بلیک میل کرنے میں کامیابی ہے کیونکہ گذشتہ برس اسرائیل نے ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر طے پائے معاہدے کے بعد صہیونی ریاست کی دفاعی ضروریات کے لیے مزید فوجی امداد کا مطالبہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکا اسرائیل کا سب سے بڑا مالی معاون ہے، اگرچہ امریکا دنیا کے 150 ملکوں کو سالانہ امداد فراہم کرتا ہے مگر ان میں اسرائیل کی فوجی اور غیر فوجی امداد سب سے زیادہ ہے۔
