اسرائیل کی مرکزی عدالت نے تیرہ سال کی عمرکے ایک فلسطینی بچے احمد مناصرہ پر دو مرتبہ اقدام قتل کے الزام میں فرد جرم عاید کی ہے۔ آئندہ چند روز میں بچے کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ احمد مناصرہ نے چند روز قبل اپنے کزن حسین مناصرہ کے ہمراہ اسکول سے چھٹی ہونے کے بعد مسجد اقصی میں جانے کی کوشش کی تھی مگر صہیونی فوجیوں نے ان پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں حسین مناصرہ شہید اور احمد زخمی ہوگیا تھا۔ احمد ابھی تک ایک اسپتال میں اسرائیلی فوج کی تحویل میں زیرعلاج ہے مگردوسری جانب اسرائیلی ملٹری پراسیکیوٹر جنرل نے اس کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ بھی چلا دیا ہے۔ویب سائیٹ پر پوسٹ کی گئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ احمد مناصرہ کو جلد ہی عدالت میں پیش کیاجائے گا۔
رپورٹ میں اسرائیلی عدالت کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حمد مناصرہ نے دو مرتبہ یہودی آباد کاروں پر قاتلانہ حملے کیے ہیں۔ 12 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں ایک اکیس سالہ یہودی آباد کار زخمی ہوگیا گیا۔ ایک دوسرے حملے میں "بسغات زئیف”کالونی میں 13 سالہ یہودی لڑکا بھی انہی کے حملے میں زخمی بتایا جاتا ہے۔
دوسری جانب احمد مناصرہ کے وکیل اور اس کے اہل خانہ نےصہیونی حکام سے احمد کو رہا کرنے کا مطالبہ کیاہے مگر اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل نے اس کی رہائی کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔
خیال رہےکہ اسرائیل میں 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو گرفتار کرنا قانون منع ہے مگر اس کے باجود اسرائیلی فوج نہ صرف کم عمر فلسطینیوں کو گرفتار کرتی ہے بلکہ ان کے خلاف مقدمات بھی چلائے جاتے ہیں۔
