انسانی حقوق کی تنظیم فلسطین اسیران اسٹڈی سینٹر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عوفر جیل میں اس وقت 1200 فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ قیدیوں کو درپیش دیگر مشکلات میں پہلا مسئلہ جگہ کی قلت کا ہے کیونکہ ایک ایک کمرے میں گنجائش سے کئی گنا زیادہ قیدی ٹھونسے گئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں 700 نئے قیدی اس جیل میں لائے گئے۔ یوں اس جیل میں لائے گئے قیدیوں کی تعداد کی تعداد میں 75 فی صد اضافہ ہوا۔ جیل کے 10 وارڈ ہیں اور ہر وارڈ میں 120 فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ تین وارڈ فلسطینی بچوں کے لیے مختص ہیں جہاں 300 بچے پابند سلاسل ہیں۔
انسانی حقوق کے مندوب ریاض الاشقر کا کہنا ہے کہ عوفر جیل میں قیدیوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافے کے بعد جیل میں چارنئے بلاک بھی قائم کیے گئے ہیں مگر اس کے باوجود قیدیوں کی مشکلات کم نہیں ہوسکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قیدیوں کو درپیش مسائل میں دوسرا اہم مسئلہ سخت سردی میں گرم کپڑوں کی قلت کا ہے۔ بیشتر قیدی پہننے کے کپڑوں پر رات کی سخت سردی میں وقت گذارنے پرمجبور ہیں۔ ریاض الاشقر کا کہنا ہے کہ مسئلہ یہ نہیں کہ قیدیوں کو کپڑے مہیا کرنے کا کوئی انتظام نہیں۔ دراصل صہیونی جیلر دانستہ طورپر قیدیوں کو گرم کپڑوں کی فراہمی سے محروم رکھتے ہیں۔ قیدیوں کے گھروں سے لائے گئے کپڑے بھی ان تک نہیں پہنچائے جاتے۔ سردی کی شدت میں اضافے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں قیدی موسمی بیماریوں کا شکار ہونے لگے ہیں۔
