(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ نے سنہ 2014 ء میں جنگ کے دوران استعمال اور تباہ ہونے میزائلوں کی کمی پوری کرلی ہے اور اس وقت حماس کے پاس کم سے کم بارہ ہزار راکٹ موجود ہیں۔
عبرانی نیوز نے اپنی رپورٹ میں سیکیورٹی ذریعے کے حوالےسے بتایا ہے کہ سنہ 2014 ء میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پرفضائی حملوں میں حماس کے ہزاروں کی تعداد میں راکٹ تباہ کردیے تھے مگرگذشتہ دو برس میں حماس کے عسکری ونگ نے کم ہونے والے راکٹوں کی تعداد دوبارہ پوری کرلی ہے اور اس وقت حماس کے پاس کم سے کم بارہ ہزار راکٹ موجود ہیں۔اسرائیل کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سنہ 2014 ء کی جنگ میں حماس نے اسرائیلی تنصیبات پر 4600 راکٹ داغےتھے جب کہ 4000 راکٹوں کو ان کے ذخائر میں تباہ کردیا گیا تھا۔ جنگ کے دوران ایک تہائی راکٹ باقی بچ گئے تھے۔ حماس نے دو سال میں جنگی بنیادوں پر مزید آٹھ ہزار سے زائد راکٹ تیار کرلیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حماس نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی جنگی صلاحیت کو کامیابی سے بہتر بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حماس نے اپنے ہاں ہاون راکٹوں کی قلت پوری کرتے ہوئے بڑی تعداد میں مزید راکٹ جمع کرلیے ہیں۔ مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی لڑائی کی صورت میں ان راکٹوں کو استعمال کیا جائے گا۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حماس کے عسکری ونگ میں 40 ہزار ماہر جنگ کام کررہے ہیں۔ ان میں نصف اسلحہ سازی اور ایک ہزار سرنگوں کی تیاری میں سرگرم ہیں۔
