(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی فوج نے سنہ 1948 ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے دو فلسطینی شہریوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان پریہودی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پولیس اور داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے’’شاباک‘‘ کی مشترکہ ٹیموں نے کارروائی کےدوران 19 سالہ بہاؤالدین زیاد حسن مصاروہ اور 21 سالہ احمد نبیل احمد کو حراست میں لیا گیا ہے تاہم ان کے شہر کی شناخت کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی خفیہ ادارے گذشتہ کچھ عرصے سےدونوں نوجوانوں کی نقل حرکت پرنظر رکھے ہوئے تھے۔ دونوں فلسطینی نوجوان ہرجمعہ کو مسجد اقصیٰ میں حاضر ہوتے تھے۔ اس دوران انہوں نے اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ کرنے کی منصوبہ بندی۔
ادھر قدس پرس پریس نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ زیاد مصاروہ نامی نوجوان کا تعلق الناصرہ شہر کے یافہ قصبے سے ہےاور شمالی غرب اردن کے جنین شہر میں زیرتعلیم تھا۔ اس نے الجلمہ یہودی فوجی چوکی پر فوجیوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ جب کہ احمد نبیل احمد کا تعلق شمالی فلسطین کے الناصرہ شہر سے ہے۔
دونوں فلسطینی نوجوانوں کواسرائیل کی مرکزی عدالت میں پیش کیا گیاہے اور ان کے خلاف ایک دہشت گر تنظیم سے وابستگی اور صہیونی ریاست کے خلاف خطرناک سازشوں اور حملوں کی منصوبہ بندی کے الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
