(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل میں کیے گئے ایک تازہ سروے کے نتائج کے مطابق یہودی آباد کاروں کی اکثریت مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو بہ تدریج صہیونی ریاست میں شامل کرنے کی حامی ہے۔
اسرائیل کے دائیں بازو کے ترجمان اخبار’’ماکوریچون‘‘ نے اپنی ویب سائیٹ پر ایک تازہ سروے کیا جس میں 44 فی صد رائے دہندگان نے مغربی کنارے کے تمام علاقوں پر بہ تدریج اسرائیلی قانون لاگو کرنے کی حمایت کی۔ 38 فی صد رائے دہندگان نے اس کی مخالفت کی جب کہ 18 فی صد نے کسی قسم کی رائے ظاہرنہیں کی ہےرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سروے رپورٹ میں اسرائیل کے تمام طبقات کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں عرب، عیسائی اور یہودی سب شامل ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل کے سرکاری قانون کا کسی فلسطینی علاقے پر اطلاق کا دوسرا مطلب اس علاقے کو اسرائیل کا حصہ قرار دیناہے۔ اسرائیل جس فلسطینی علاقے پر اپنا قانون نافذ کرتا ہے اسے صہیونی ریاست کےایک حصے کے طورپر ڈیل کیا جاتا ہے۔ صہیونی ریاست کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس اور وادی گولان پربھی اپنا قانون نافذ کررکھا ہے حالانکہ یہ عالمی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے کیونکہ عالمی برادری بیت المقدس اور وادی گولان پر اسرائیل کاقبضہ تسلیم نہیں کرتی ہے۔
