(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) مسجد اقصیٰ کی کھلے عام سرکاری سرپرستی میں یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں جاری بے حرمتی پر اردن نے اسرائیل سے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبلہ اوّل سرخ لکیر ہے اور اسے کسی صورت میں پامال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق اردنی حکومت نے عمان میں متعین اسرائیلی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے انہیں ایک احتجاجی یاداشت پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ پر یہودی آباد کاروں کے منظم انداز میں جاری دھاوے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ اردن اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ یہودی اشرار کو قبلہ اوّل کا تقدس پامال کرنے سے باز رکھے۔اردنی حکومت کے ترجمان اور سیکرٹری اطلاعات محمد المومنی نے عمان میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اسرائیلی حکام پر واضح کردیا ہے کہ قبلہ اوّل ہمارے لیے سرخ لکیر کا درجہ رکھتا ہے اور ہم اسے کسی صورت میں پامال نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ پر یہودی آباد کاروں کے منظم دھاوے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسرائیلی ریاست یہودیوں کو قبلہ اوّل میں داخل ہونے سے روکنے کوشش نہیں کررہی ہے۔ اردنی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ یہودیوں کا قبلہ اوّل پر یلغار مذہبی اشتعال انگیزی ہے اور اس کےسنگین نتائج کی ذمہ داری اسرائیل پرعائد ہوتی ہے۔
محمد المومنی نے بتایا کہ عمان میں متعین اسرائیلی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے انہیں ایک احتجاجی یاداشت سپرد کی گئی ہے جس میں واضح کردیا گیا ہے کہ القدس شریف میں یہودی آباد کاروں کی مذہبی سرگرمیاں قابل قبول نہیں ہیں۔ یاداشت میں یہودی مذہبی پیشوا یہودا گلیک اور اس کی قیادت میں یہودیوں کے قبلہ اوّل پر دھاؤں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
