(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل میں رائے عامہ کے ایک تازہ جائزے میں حصہ لینے والے یہودیوں کی اکثریت نے تسلیم کیا ہے کہ گذشتہ دو برسوں کے مقابلے میں اس وقت اسرائیلی معاشرہ زیادہ شدت پسندی اور نسل پرستی کے مظاہر کا مرتکب ہے۔
رپورٹ کے مطابق عبرانی اخبار کے زیر اہتمام کیے گئے سروے میں 52 فی صد رائے دہندگان نے کہا کہ اسرائیل پچھلے دو برسوں کے مقابلے میں زیادہ نسل پرست ہوچکا ہے۔ سنہ 1948 ء کے اندرونی علاقوں میں رہنے والے 67 فی صد یہودی کہتے ہیں کہ ان کا ملک نسل پرست اسٹیٹ بن چکا ہے۔سروے جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں عربوں کے ساتھ نفرت میں 77 فی صد، نئے آنےوالے یہودی آباد کاروں کے حوالے سے 77 فی صد اور ایتھوپیا کے یہودی باشندوں کے حوالے سے 75 فی صد نفرت کے رحجانات پائے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 41 فی صد یہودیوں کا خیال ہے کہ مشرقی یہودی زیادہ نفرت کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس کےعلاوہ سابق سوویت یونین سے آنے والے یہودیوں کو 39 فی صد اسرائیلیوں کی نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ مغربی یہودیوں کے حوالے سے یہ رحجان 20 فی صد ہے۔
