اسرائیل کے "انسٹیٹیوٹ آف جیوگرافی” کے زیراہتمام یورپی یونین کی جانب سے اسرائیل کے اقتصادی بائیکاٹ کے اثرات کے بارے میں ایک عوامی جائزے پر مبنی رپورٹ تیار کی گئی۔ سروے رپورٹ میں حصہ لینے والوں کی اکثریت نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یورپ کی دھمکیاں غیر سنجیدہ نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں اسرائیل کو یورپی یونین کے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 67 فی صد رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ امن عمل کی ناکامی کی صورت میں اسرائیل کو بالعموم پوری عالمی برادری بالخصوص یورپ کی جانب سے بائیکاٹ کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے اس کےنتیجے میں اسرائیل سنگین معاشی بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔
"انسٹیٹیوٹ آف جیوگرفک” کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ یہودی آباد کار یورپی یونین کی جانب سے اقتصادی بائیکاٹ کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے رہےہیں۔ یہودی آباد کاروں کا خیال ہے کہ یورپ یونین ذہنی طور پر تل ابیب پرمعاشی پابندیاں لگانے کے لیے تیار ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی پابندیوں کے نتیجے میں شمالی اسرائیل اور غریب اور درمیانہ طبقہ بھی متاثر ہوں گے کیونکہ اسرائیل میں شہریوں کی اوسط آمدن نو سے تیرہ ہزار شیکل یعنی 3600 امریکی ڈالر سالانہ سے زیادہ نہیں ہے۔
