اردن سے متصل مقبوضہ علاقے وادی اردن میں المالح کے مقام پر اسرائیلی فوج نے تازہ جنگی مشقیں شروع کی ہیں۔ ان جنگی مشقوں میں فلسطینی بدؤں کےخلاف کارروائی اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی تربیت دی جا رہی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق وادی المالح ایک مقامی ذریعے اور عینی شاہدین نے بتایا کہ اتوار کے روز صہیونی فوج کی دسیوں جیپیں، ٹرک اور سیکڑوں فوجی اہلکار المالح کے پہاڑوں علاقوں پر جمع ہوگئے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے جنگی مشقیں شروع کردیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج نے المالح کے پہاڑی علاقوں کی ناکہ بندی کرکے مقامی سطح پرسات فلسطینی قصبوں کے راستوں پر شہریوں کی آمدو رفت بھی روک دی ہے۔ جس جگہ جنگی مشقیں جاری ہیں اس کی ناکہ بندی کیے جانے کے بعد فلسطینیوں کو اس کے قریب نہیں جانے دیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ صہیونی فوج کی جانب سے نہ صرف وادی المالح اور اسکے ملحقہ علاقوں میں مقیم فلسطینیوں کو نہ صرف جبری بے دخلی، ان کے قتل عام اور املاک پر مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں بلکہ اسرائیل فوج کی 70 فی صد جنگی مشقیں بھی اسی علاقے میں ہوتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں مقامی فلسطینی عرب آبادی کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔
وادی المالح پر قبضہ مضبوط بنانے کے لیے وہاں پر یہودی آباد کاروں کے لیے سات کالونیاں اور فوج کے کئی کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ کالونیوں میں شدموت، مخلو، روتم، مسکیوت اور فوجی کیمپوں میں ناحال، سمرا اور بیلس کیمپ زیادہ بڑے اور مشہور ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
