امریکی سینٹ کی رُکن الھان عمر نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر الزام عاید کیا ہےکہ وہ کانگریس میں تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے دونوںبڑی جماعتوں ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس کی طرف سے مشترکہ طور پربل لانے کوششوں میں رخنہ اندازی کررہے ہیں۔
سوشل میڈیاپر اپنے متعدد ٹویٹس میں امریکی سینیٹ کی مسلمان رکن الھان عمر نے لکھا کہ اسرائیلی وزیراعظم فلسطینی ریاست کی علیحدہ حیثیت کے لیے کی جانے والی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے حامی ایک عرصے سے کانگرس میں مداخلت کرکے تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کی راہ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ارکان ہم پورے عزم کے ساتھ اسرائیلی وزیراعظم کی طرف سے دو ریاستی حل کے خلاف کی جانے والی کوششوں کی روک تھام کریںگے۔
ادھر امریکی اخبارات نے ذرائع کےحوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل امریکی ایوان نمائندگا سے قضیہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے قرارداد کی منظوری روکنے کی کوشش کررہےہیں۔
جب سے امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنھبالا ہے امریکا کی طرف سے فلسطین ۔ اسرائیل تنازع کے دو ریاستی حل کی امریکی حمایت میں کمی آئی ہے۔
کانگرس میں فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت میں بل ری پبلیکن رکن لینڈسی گراہم اور ڈیموکریٹک کے کریس وان ہولن کی طرف سے تیار کیا گیا ہے۔
ری پبلیکن پارٹی میں گراہم جیسےارکان پارلیمنٹ کی طرف سے اس قرارداد کی حمایت سے اشارہ ملتا ہے کہ قضیہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے کانگرس میں یہ قرارداد بھاری اکثریت سے منظور ہوجائے گی تاہم اسرائیلی وزیراعظم اس قرارداد پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہےہیں۔
