یہ حفاظتی دیوار نہ صرف پڑوسی ملکوں کی سرحدوں پر تعمیرکی جائے گی بلکہ فلسطین کے علاقے غرب اردن میں بھی تعمیر کرکے صہیونی ریاست کو فلسطینیوں سے الگ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے پورے اسرائیل کے گرد حفاظتی باڑ کے پلان ک انکشاف گذشتہ روز اردن کی سرحد سے متصل حفاظتی باڑ کے معائنے کے موقع پر فوجی عہدیداروں سے گفتگوکے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے وحشیوں سے اسرائیل کو بچانے کے لیے رکاوٹیں اور دیواریں کھڑی کرنا اسرائیل کے دفاع کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے دفاع میں اس کے چاروں اطراف حفاظتی باڑ لگانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اس منصوبے پر کئی ارب ڈالر کی لاگت بھی آئے گی مگر اسرائیل کےدفاع میں یہ کوئی بڑی قیمت نہیں ہے۔
اردن کی سرحد سے متصل علاقے ’’تمناع‘‘ کےدورے کے موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ وزیرمواصلات اور انٹیلی جنس کے وزیر کے علاوہ آرمی چیف جنرل آئزن کوٹ، سدرن کمانڈ کےملٹری چیف میجر جنرل ایال زمیر اور بریگیڈ 80 کے کمانڈر بریگیڈیئر رافی میلو اور حفاظتی دیوار کے نگران بریگیڈیئر عیران اوفیر بھی موجود تھے۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے ایک ماہ قبل اردن کی سرحد پر حفاظتی باڑ لگانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اسرائیل کی چوتھی دیوار ہے۔ اس سے قبل مصر کی سرحد پر 240 کلو میٹر کی طویل دیوار، شام کی وادی گولان اور غرب اردن میں بھی دیواریں تعمیر کی جا چکی ہیں۔
