رپورٹ کے مطابق قاہرہ میں عرب لیگ کے صدر دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیاہے کہ حال ہی میں ایک بے گناہ فلسطینی عبدالفتاح الشریف کو زخمی کرنے کے بعد اسے سرمیں گولیاں مار کرشہید کرنا اسرائیل کی منظم دہشت گردی اور جنگی جرم ہے۔ جب یہ ثابت ہوگیا تھا کہ فلسطینی نوجوان اسرائیلی فوجیوں کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود اسے گولیاں مار کرشہید کرنا اس بات کا مظہر ہے کہ صہیونی فوج انسانی حقوق کی سنگین پامالی کی مرتکب ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی جذبات سے بھی عاری ہوچکی ہے۔
بیان میں عرب لیگ نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیاہے کہ وہ فلسطین میں اسرائیلی افواج کے ہاتھوں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کا نوٹس لے اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر اسرائیل کو عالمی عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔
عرب لیگ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی تمام انسانی اور اخلاقی حدود کو بھی پامال کرتے ہوئے وحشیانہ جنگی جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ عالمی برادری کو فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں تل ارمیدہ کے مقام پر اسرائیلی فوجیوں نے ایک فلسطینی نوجوان کو گولیاں مار کر زخمی کیا۔ بعد ازاں اس کے سرمیں گولیاں مار کر اسے شہید کردیا گیا تھا۔ اس واقعے پر عالمی سطح پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کو بھی نہتے فلسطینی کے قاتل فوجی کو گرفتار کرنا پڑا ہے۔
