(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ شامی سرحد سے ملنے والا گولان کی سطح مرتفع ہمیشہ اسرائیل ہی کے ہاتھ میں رہے گی۔اس موقع پر نتین یاہو کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر شبہ ہے کہ شام کبھی بھی اس حالت تک واپس لوٹ سکے گا جو پانچ سال قبل شروع ہونے والی خانہ جنگی سے قبل اس کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شام کے استحکام کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کی اس وقت تک کوئی مخالفت نہیں کریں گے جب تک وہ اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے خطرہ نہیں بنتیں۔ صیہونی وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیل گولان کی پہاڑیوں سے نہیں نکلے گا. ادھر شام کا کہنا ہے کہ گولان ہماری ملکیت ہے اور کسی قیمت پر دستبردار نہیں قابض صیہونی حکومت بین الاقوامی سرپرستی میں پر نکالنے میں تیز ہوتی دکھا ئی دے رہی ہے۔“اسرائیل نے شامی علاقے گولان پر سن 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا جبکہ 1981ءمیں سے اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا۔ شام اور اسرائیل کے درمیان کسی امن معاہدے کے لیے اسرائیل کا اس علاقے سے انخلاءکا طویل وقت سے انتظار کیا جا رہا تھا تاہم شام میں خانہ جنگی کے بعد اس طرح کے امکانات کافی کم ہو گئے ہیں۔گولان ہائٹس کا علاقہ اسرائیل کے شمالی حصے میں واقع ہے اور اسے اس یہودی ریاست کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ نیتن یاہو کے اس اعلان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل اب مستقل طور پر گولان کی پہاڑیوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھنا چاہتا، وہ اسے کسی بھی طور پر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں اور وہ خطے میں اپنی بالادستی قائم رکھنا چاہتا ہے۔ نیتن یاہو کے اس اعلان کے بعد خطے میں جنم لینے والی کشیدگی میں اضافہ ہو گا جو مستقبل میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں شام سے گولان کی پہاڑیوں کا 1200مربع کلومیٹر رقبہ چھین لیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔ چند روز قبل شام کے صدر بشار الاسد نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ امن مذاکرات میں گولان کی پہاڑیوں کی واپسی پر غور کیا جانا چاہیے۔ شام ایک عرصے سے یہ مطالبہ کرتا چلا آ رہا ہے کہ گولان کی پہاڑیاں اسے واپس کی جائیں۔ اب نیتن یاہو کے اس واضح اعلان کے بعد کہ گولان کی پہاڑیاں اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسرائیل کا حصہ بن کر رہیں گی اور انھیں کسی بھی صورت شام کو واپس نہیں کیا جائے گا‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے۔اسرائیل بخوبی جانتا ہے کہ شام اس وقت خانہ جنگی کا شکار ہونے کے باعث خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے ایسی صورت میں اس کے پاس یہ صلاحیت نہیں کہ وہ بزور قوت اس سے گولان کی پہاڑیاں چھین سکے یا عالمی طور پر اسے دباؤ میں لا کر اپنے مطالبات منوا سکے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اقوام متحدہ اور امریکا بھی درپردہ اسرائیلی موقف کا ساتھ دے رہے ہیں اور انھوں نے کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ اسرائیل اور شام کے درمیان تنازعات طے پا جائیں بلکہ ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت شام کو اتنا کمزور کر دیا گیا ہے کہ وہ اب اسرائیل کے لیے خطرہ ہی نہیں رہا۔
