ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے پاکستان کی جانب سے اس بات پر زور دیا کہ دو ریاستی حل کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تا کہ خطے میں امن وامان قائم ہو سکے اس موقع پر ملیحہ لودھی یقیناًیہ بھول چکی تھیں کہ دو ریاستی حل کا مطلب غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کو تسلیم کر نا ہے جسے نہ صرف قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی غاصب اور قابض ریاست قرار دیا تھا اور تسلیم نہیں کیا تھا تاہم اس بات سے پاکستان کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور مختلف سماجی غیر سرکاری تنظیموں نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ قیام پاکستان سے قبل اور قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح ؒ سمیت دیگر بانیان پاکستان نے ہمیشہ اسرائیلی بربریت او ر فلسطین پر اسرائیلی ناجائز تسلط کو مسلم امہ کے قلب پر خنجر کی مانند قرار دیا تھا تاہم حیرت انگیز با ت یہ ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں موجود پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے دو ریاستی حل کی بات کر کے نہ صرف نظریہ پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ پاکستان میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کے جذبات بھی مجروح کئے ہیں۔
دوسری جانب فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان نے ملیحہ لودھی کے دو ریاستی حل کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ملیحہ لودھی کو فی الفور اقوام متحدہ کی سفارت سے واپسی طلب کیا جائے اور ان کے خلاف کاروائی کی جائے بصورت دیگر ملک بھر میں سنگین احتجاج کیا جائے گا۔
