رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجی تحقیق کاروں نے اپنے پیٹی بھائیوں کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ فلسطینی نوجوان عبدالفتاح الشریف کے پاس کسی قسم کا دھماکہ خیز مواد موجود تھا،یا اس کے پاس باوردی جیکٹ یا دیگر کسی قسم کا اسلحہ موجود تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہید فلسطینی کے قبضے سے ایسی کوئی بھی چیز برآمد نہیں ہوئی ہے جس سے یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ وہ اسرائیلی فوجیوں کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جمعرات کو مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں تل ارمیدہ کے مقام پر ایک فلسطینی نوجوان کو گولیاں مار کر زخمی کردیا تھا۔ بعد ازاں زخمی نے خود کو سنھبالنے کی کوشش کی تو ایک فوجی نے اس کے قریب جا کر اس کے سرمیں اندھا دھند گولیاں برسادیں جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شہید ہوگیا تھا۔
اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے’’بتسلیم‘‘ نے اسرائیلی فوج کی وحشیانہ دہشت گردی کی فوٹیج حاصل کی اور اسے میڈیا پر نشر کردیا گیا جس کے بعد اسرائیلی فوج نے بھی اس واقعے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا۔ زخمی فلسطینی کے سرمیں گولی مارنے والے اسرائیلی درندے کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق قاتل فوجی انتہا پسند یہودی گروپوں سے بھی قربت رکھتا ہے اور اس کا شمار دائیں بازو کے شدت پسندوں میں ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے قتل کی تحقیقات کے لیے کمیشن بہت قائم کیے جاتے ہیں مگرصہیونی فوج ہمیشہ دہشت گرد فوجیوں کو بچاتے ہوئے معصوم فلسطینیوں ہی کو قصور وار قرار دیتی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کے ان چند واقعات میں سے ایک ہے جب اسرائیلی فوج نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ فوجی اہلکار نے فلسطینی نوجوان کو بلا جواز گولیاں ماریں۔
یہ تحقیقاتی رپورٹ اپنی جگہ مگردوسری جانب اسرائیل میں اعلیٰ سطح پرایک مہم بھی جاری ہے جس میں گرفتار اسرائیلی فوجی کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہاہے۔ اس مہم میں سیاست دان، فوجی افسر اور انتہا پسند یہودی گروپوں کے لیڈر بھی پیش پیش ہیں۔
