رپورٹ کے مطابق تل ابیب میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مغوی اسرائیلی فوجی ’’ارون شاؤل ‘‘ کے والد ہرٹزل شاؤن نے کہا کہ حکومت اس کے بیٹے کی فلسطینی مزاحمت کاروں سے بازیابی کے معاملے میں دانستہ لاپرواہی اور عدم توجہی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
ہرٹزل شاؤل کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور اسرائیلی اس کے بیٹے کی بازیابی کے لیے سنجیدہ کوششیں کرتی تو وہ آج تک رہا ہوچکا ہوتا مگر حکومت کی دانستہ لاپرواہی کے نتیجے میں ارون شاؤل کو بازیاب نہیں کرایا جاسکا ہے۔
مغوی اسرائیلی فوجی کے والد کا کہنا تھا کہ اس کا بیٹا کینسر کا بھی مریض ہے اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاں جنگی قیدی بنائے ہوئے اس دو سال ہونے کو ہیں۔ اس لیے اس کی جان کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
خیال رہے کہ سنہ 2014 ء کے موسم گرما میں اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں نے ایک کارروائی کے دوران متعدد اسرائیلی فوجی ہلاک کردیے تھے۔ فلسطینیوں کی کارروائی کے نتیجے میں ایک اسرائیلی فوجی کو زندہ پکڑ لیا گیا تھا۔ بعد میں اس نے اپنی شناخت ’’ارون شاؤل‘‘ کے نام سے کی تھی۔
حال ہی میں یہ خبریں آئی تھیں کہ اسرائیلی حکومت اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان بالواسطہ بات چیت میں مغوی اسرائیلی فوجی کی رہائی کے سلسلے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔
