رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سینٹرل کمانڈ کے ایک سینیر رکن جنرل رونی نوما کا ایک بیان اسرائیلی میڈیا میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ جنرل رونی نوما کا کہنا ہے کہ عباس ملیشیا کی جانب سے اسرائیلی فوج پرہونے والے فلسطینی نوجوانوں اور مزاحمت کاروں کے قاتلانہ حملوں کی روک تھام میں غیرمعمولی خدمات انجام دی گئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی جنرل کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ اور اسرائیل کے نائب وزیراعظم نفتالی بینٹ کے اس تاثر کی نفی کی گئی ہے کہ غرب اردن کے سیکٹر A میں اسرائیلی فوج کی تعداد کم کرنے کے اسرائیل کی سلامتی پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اسرائیلی جنرل کا کہنا ہے کہ فلسطینی سیکیورٹی ادارے بہتر کام کررہے ہیں اور انہوں نے دہشت گردی کی بیخ کنی اور اسرائیلی فوج پرحملوں کی روک تھام میں ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطینی علاقوں غرب اردن اور بیت المقدس میں پچھلے سال اکتوبر کے بعد سے تحریک انتفاضہ القدس جاری ہے۔ اب تک اس تحریک میں دو سو سے زائد فلسطینی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرچکے ہیں۔ دوسری جانب فلسطینی سیکیورٹی ادارے اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر تحریک انتفاضہ کچلنے میں مصروف ہیں۔ فلسطینی انٹیلی جنس چیف ماجد فرج نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ ان کے ماتحت سیکیورٹی حکام نے اسرائیلی فوج پر ہونے والے 200 سے زاید مزاحمتی حملے ناکام بنائے ہیں۔
