رپورٹ کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف نے اعتراف کیا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی غزہ میں کھودی گئی سرنگیں اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں اوران سے نمٹنے کے لیے اب تک بھاری رقوم بھی خرچ کی جا چکی ہیں۔ رقم کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور فوجی آپریشن بھی کیے گئے ہیں مگریہ چیلنج آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔
جنرل آئزنکوٹ کا کہنا تھا کہ غزہ میں سرنگوں سے نمٹنے کے لیے گذشتہ ایک عشرے میں ایک ارب شیکل سے زاید کی رقم صرف کرچکے ہیں ان میں سے 500 ملین شیکل کی رقم سنہ 2008.09 ء کے دوران غزہ کی پٹی میں کیے گئے لیڈ کاسٹ آپریشن کے دوران خرچ کی گئی تھی۔
اسرائیلی آرمی چیف نے بتایا کہ سنہ 2015 ء میں ملٹری انٹیلی جنس ادارے’’امان‘‘ نے اپنی رپورٹ میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا تھا کہ اسرائیلی فوج فلسطینی مزاحمت کاروں کے معاملے میں کمزور پڑسکتی ہے کیونکہ غزہ کی پٹی میں سرنگوں کی موجودگی اسرائیلی فوج کے لیے وبال جان سے کم نہیں ہے۔
