• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کی صہیونی مہم دوبارہ شروع

پیر 02-05-2016
in عالمی خبریں
0
0Pala1202
0
SHARES
0
VIEWS

(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل میں ایک بار پھر فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کو صہیونی ریاست کا مستقل حصہ بنانے کی مذموم مہم شروع ہو گئی ہے۔ یہ مہم ماضی میں بھی اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) میں شروع کی گئی تھی مگر بعد ازاں اسے باوجوہ روک دیا گیا تھا۔

حال ہی میں اسرائیل کے ایک سرکردہ یہودی لیڈر’شیلا الدار‘ نے انکشاف کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں جلد ہی ایک بل پیش کیا جانا ہے جس میں مطالبہ کیا جائے گا کہ ارکان پارلیمنٹ مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ بنانے کے لیے قانون سازی کریں۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شیلا الدار نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ میں ایسے کئی ارکان موجود ہیں جو مغربی کنارے کو اسرائیل کا اٹوٹ انگ قرار دینے کا خیال رکھتے ہیں اور وہ اپنے اس نظریے کو عملی شکل میں ڈھانے کے لیے قانون سازی کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔

اسرائیل کی حکمراں جماعت ’’لیکوڈ‘‘ سے تعلق رکھنے والے رکن کنیسٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی ارکان پارلیمنٹ اور وزراء سے بھی اس بات کا عہد لیا ہے کہ وہ مغربی کنارے کو یہودی ریاست کا حصہ بنانے کے لیے قانون سازی کے عمل میں حصہ لیں گے۔ ان کے ساتھ شدت پسند مذہبی سیاسی جماعت’’جیوش ہوم‘‘ کے ارکان کنیسٹ بھی شامل ہیں اور وہ سب مل کر جلد ہی پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کریں گے جس میں غرب اردن کو صہیونی ریاست کا حسہ بنایا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق شیلا الدار اور اس کے حامیوں کو اسرائیل کے نائب وزیردفاع اور جیوش ہوم کے لیڈر ایلی بن ڈھان کی حمایت بھی حاصل ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض ارکان کنیسٹ کی تجویز یہ ہے کہ مغربی کنارے کے ’سیکٹر C‘ کا علاقہ اسرائیل میں شامل کرلیا جائے کیونکہ یہ بھی غرب اردن کے کل رقبے کا 60 فی صد ہے۔

رپورٹ کے مطابق غرب اردن کے سیکٹر سی میں چار لاکھ یہودی اور 70 ہزار عرب شہری آباد ہیں۔ اس سیکٹر کو اسرائیل میں ضم کیے جانے کے بعد عرب آبادی کے سامنے دوآپشنز رکھے جائیں گے۔ وہ چاہیں تو اسرائیل کی شہرت اختیار کریں اور اپنی علاقوں میں ٹھہرے رہے ہیں۔ اگر وہ اسرائیلی شہریت پر راضی نہ ہوں تو انہیں متبادل علاقوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔

Tags: israelipalestineThirdIntifadaUnitedForPalestineغرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کی صہیونی مہم دوبارہ شروع
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.