(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر بیت لحم میں ’’غوش عتصیون‘‘ نامی یہودی کالونی میں اسرائیلی حکام نے نئے تجارتی اور کاروباری مراکز کا افتتاح کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غوش عتصیون نامی اس یہودی کالونی میں جہاں نئے تجارتی مراکز قائم کرکے یہودیوں کو وہاں خریداری کی ترغیب دی گئی ہے فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں کی وجہ سے بھی کافی مشہور ہے۔ اسی یہودی کالونی کے مرکزی راستے پر قائم اسرائیلی فوجی چوکیوں پر اب تک متعدد فلسطینی شہریوں کو گولیاں مار کرشہید کیا جا چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق نئے تجارتی مراکز کا افتتاح اسرائیلی وزیرخزانہ نے حال ہی میں کیا ہے جس کے بعد وہاں پر کئی نئے جنرل اسٹور اور شاپنگ مال قائم کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غوش عتصیون میں نئے تجارتی مراکز فلسطینی مزاحمت کاروں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں۔ نئے تجارتی مراکز کے افتتاح کے موقع پر غوش عتصیون یہودی کالونی میں ڈویلپمنٹ کمپنی کے چیئرمین ایلی بن نے بھی شرکت کی اور انہوں نے کہا کہ نئے کاروباری مراکز کا افتتاح فلسطینیوں کی دہشت گردی کا جواب ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے کاروباری مراکز کےافتتاح کے لیے تقریب کا اہتمام وہاں پر بنائے گئے ایک نئے پلازے کی بالائی منزل میں رکھا گیا تھا تاہم داخلی سلامتی کے خفیہ دارے شاباک کی ہدایت پر سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر بعد ازاں تقریب کی جگہ تبدیل کرتے ہوئے نچلی منزل میں رکھا گیا۔
