اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کی دوستی کی کوششوں اور امریکا کی صدی کی ڈیل منصوبے کو آگے بڑھانے میں معاونت فلسطینی قوم کے ساتھ غداری ہے۔
تیونس کے شہر’الحمامات’ میں ہونے والی عرب معلم کانفرنس کےاعلامیے میں اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات کے فروغ کی ہرطرح کی کوششوں کا مقابلہ کرنے اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں پوری عرب دنیا کے اندر امریکی۔ اسرائیلی گٹھ جوڑ کامقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں عرب ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ سنہ فلسطین کے حوالے سے عرب لیگ کے پیش کرد فارمولے، طریقے کار، قراردادوں اور سنہ 1967ء کے بعد قبضے میں لیے گئے علاقوں پرآزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدو جہد میں فلسطینیوں کی مدد کریں۔
تیونس میں ہونے والی عرب معلم کانفرنس میں بیت المقدس کے حوالے سے امریکی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے تمام اقدامات کو مسترد کردیا گیا اور واضح کیا کہ القدس صرف فلسطینی مملکت کا دارالحکومت ہوگا اور وادی گولان پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ ختم کرکے اسے شام کے حوالے کیا جائے۔
