(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی پارلیمنٹ کی دستور ساز کمیٹی نے ایک مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد کسی بھی عرب رکن کنیسٹ کو پارلیمنٹ سے بےدخل کرتے ہوئے اس کے سیاست میں حصہ لینے پرپابندی عاید کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق سوموار کے روز اسرائیلی کنیسٹ کی قانونی کمیٹی نے وزیراعظم نیتن یاھو اور بعض دوسرے ارکان کی کوشش سے تیار کردہ مسودہ قانون پارلیمنٹ میں بحث کے لیے منظور کرلیا ہے۔ Exclusion Act نامی اس مسودہ قانون میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ کوئی بھی ایسا اسرائیلی رکن پارلیمنٹ جو اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم کرنے سے انکار کرے، تشدد اور نسل پرستی کی حمایت کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے خلاف مسلح جدو جہد کی حمایت کرے تو اس کے خلاف پارلیمنٹ حرکت میں آئے گئے اور اس کی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کردی جائے گی۔یہ متنازع قانون جلد ہی پارلیمنٹ میں بحث اور منظٖوری کےلیے پیش کیا جائے گا۔ اگر پارلیمنٹ کے 61 ارکان اس بل کی حمایت کرتے ہیں تو اس کے بعد ایک اور خصوصی اجلاس بلایا جائے گا جس میں 90 ارکان کی حمایت کی صورت میں مجوزہ رکن پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کرنے کے بعد اسے ہمیشہ ہیمشہ کے لیے انتخابات میں حصہ لینے سے منع کردیا جائے گا۔
پارلیمنٹ کی جانب سے کارروائی کے بعد دس روز کے اندر اندر متعلقہ رکن پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ سے رجوع کا اختیار ہوگا۔
دوسری جانب عرب رکن کنیسٹ ایمن عودہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر صہیونی پارلیمنٹ میں عرب ارکان کو بے دخل کرنے کا متنازع قانون منظور کیا گیا تو وہ اس کے خلاف بہ طور احتجاج استعفیٰ دے دیں گے۔
