(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی کنیسٹ کے عرب خاتون رکن اور سرکردہ سیاست دان حنین الزعبی نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج اور سیاست منظم پالیسی کے تحت فلسطینیوں کو ماورائے قانون قتل میں ملوث ہیں جو حقیقی دہشت گردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حنین الزعبی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج، پولیس اور نام نہاد سیکیورٹی ادارے فلسطینیوں کا قتل عام کرتے ہیں اور صہیونی سیاسی ادارے اور حکومت قاتلوں کو تحفظ فراہم کرکے فلسطینیوں کے خلاف جرائم کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس طرح اسرائیلی فوج ار سیاسی ادارے سب دہشت گردی کے مرتکب ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نہتے فلسطینیوں کو زندہ جلانے، ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھانے اور ان کا خون بہانے والوں کو ذہنی مریض قرار دے کر بچالیا جاتا ہے۔ انہوں نے رواں سال مئی میں مغربی کنارے کے نابلس شہر میں دوما کے مقام پر ایک فلسطینی خاندان کو زندہ جلائے جانے کے واقعے کو بہ طورمثال پیش کیا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ علی ،سعد اور رھام دوابشہ کو زندہ جلانے میں ملوث صہیونی دہشت گردوں کو کس نے ذہنی مریض قرار دے کر قانون کے کٹہرے سے بچانے میں ان کی مدد کی ہے۔ غزہ کی پٹی میں 500 بچوں کے قتل میں ملوث صہیونی فوجیوں کے خلاف عدالتی کارروائی کیوں نہیں ہونے دی گئی۔ اسرائیلی فوج نے ایک سال قبل غزہ کی پٹی پر 1700 نہتے شہریوں کو نہایت بے دردی سے تہہ تیغ کیا مگر صہیونی سیاست دان قاتل فوجیوں کو بچانے کے لیے ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔
حنین الزعبی کا کہناتھا کہ اسرائیل کی موجودہ حکومت اور فوج کسی اخلاقی دائرے کی پابند نہیں۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔ روز مرہ کی بنیاد پر فلسطینیوضں کو شہید کیا جا رہا ہے۔ پچھلے تین ماہ کے دوران شورش کی آڑ میں دسیوں فلسطینی بچوں کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا ہے۔ یہ تمام واقعات صہیونی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی اور اسرائیلی اداروں کی دہشت گردی کی کھلی حمایت کی عکاسی کرتے ہیں۔
