رپورٹ کے مطابق دونوں اسیران کے وکیل اور انسانی حقوق کی تنظٰم کلب برائے اسیران کی کے مندوب مفید الحاج نے بتایا کہ ان کے موکلین سامر ابو عیشہ اور حجازی ابو صبیح کو اسرائیل کی عدالت کی جانب سے انتظامی حراست کی دی گئی سزا میں توسیع کی تھی جس کے خلاف انہوں نے اسرائیل کی مرکزی عدالت میں نظرثانی کی درخواست دی تھی۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے دونوں فلسطینیوں سامر ابو عیشہ اور حجازی ابو صبیح کو بیت المقدس سے بے دخل کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ انہیں بے دخل کرنے کی دھمکی کے ساتھ ساتھ انتظامی حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ بیت المقدس میں انسانی حقوق کی تنظیم ریڈ کراس کے ہیڈ کواٹر کے سامنے انسانی حقوق کے کارکن اور مقامی شہری ان کی القدس بدری کے فیصلے کے خلاف احتجاجی دھرنا بھی دیئے ہوئے ہیں۔
