رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے سیاسی،سماجی، عوامی اور ابلاغی حلقوں میں بھی دہشت گرد مافیاؤں کی مالی معاونت کا معاملہ زیربحث ہے یہاں تک اب یہ معاملہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں بھی پہنچ چکا ہے۔ ویسے تو کئی انتہا پسند یہودی گروپوں کو حکومت اور سرکردہ یہودی شخصیات فنڈز فراہم کرتی اور انہیں مالا مال کرتی ہیں مگر’’جبایۃ الثمن‘‘ نامی گروپ اس باب میں سرفہرست ہے جسے اسرائیلی حکومت، سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور بڑے بڑے کاورباری حضرات کی جانب سے مالی معاونت ملتی رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی کنیسٹ کی ’’ٹرانسپیرنسی کمیٹی‘‘ کے چیئرمین اور رُکن کنیسٹ اسٹاؤ شابیر کی زیرصدارت کمیٹی کا ایک اہم اجلاس ہوا ہے جس میں اس بات پربحث کی گئی کہ آیا ’’جبایۃ الثمن ‘‘ جیسے منافرت پھیلانے گروپوں کے پس مردہ کون کون سی شخصیات ہیں جو اس گروپ کی مالی معاونت کررہی ہیں۔
صہیونی کنیسٹ کی شفافیت کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ یہ بات باعث تشویش ہے کہ ’’جبایۃ الثمن‘‘ جیسے گروپوں کو اسرائیل کی اہم حکومتی شخصیات مالی معاونت کررہی ہیں۔ یہ بات اس لیے بھی باعث تشویش ہے کہ حکومت ملک میں قانون کی عمل داری کے لیے شہریوں پرتو بھاری ٹیکس عائد کرتی ہے مگر دوسری جانب کروڑوں شیکل کی بھاری رقوم خفیہ ذرائع سے ایک انتہا پسند گروپ کو منتقل کرکے اسرائیل کو بدامنی میں ملوث گروپوں کا مالی سرپرست ثابت کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات سے یہ بات ٹھوس دستاویزات کے ساتھ ثابت ہوچکی ہے کہ ’’جبایۃ الثمن‘‘ جیسے گروپ اسرائیل میں کے خلاف اور قانون کی عمل داری کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ایسے گروپوں کو اپنے مشکوک اور مکروہ نظریات کےفروغ کے لیے بھاری مقدار میں فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ جبایۃ الثمن اور اس قبیل کے دوسرے گروپوں کو اسرائیلی وزارت زراعت، سماجی بہبود اور نیشنل سروسزاتھارٹی کے ذریعے رقوم منتقل کی جاتی ہیں۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ دستاویزی ثبوتوں سے پتا چلا ہے کہ ’’جبایۃ الثمن‘‘ نامی گروپ نہ صرف فلسطینیوں کے خلا ف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے بلکہ اسرائیلی فوج اور عام اسرائیلی شہری بھی اس گروپ کے نشانے پرہیں۔ حکومت میں شامل وزراء بھی اس گروپ کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کے مالی سوتوں کو بند کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں درپردہ اس گروپ کے معاونت کاروں اور سرپرستوں کی بڑی تعداد اسرائیل میں اہم سیاسی اور حکومتی عہدوں پر بھی موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق مبصرین کا خیال ہے کہ اگرچہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں جبایۃ الثمن کے مالی معاونت کاروں کو بے نقاب کرنے کا آغاز ہوا ہے مگراس راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے عناصر بھی سرگرم ہوگئے ہیں۔ اس لیے غالب امکان یہی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور ان کے دیگر مقربین اپنے پروردہ گروپ کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے۔
