مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق منگل کے روز ہالینڈ کی دائیں بازو کی جماعت "فریڈم” کے رکن پارلیمنٹ "لورینس اسٹاسن” نے مطالبہ کیا کہ ارئیل شیرون کی موت پر اجلاس کے تمام اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکرایک منٹ کی خاموشی اختیار کر کے اس پرافسوس کا اظہار کریں۔ تاہم پارلیمنٹ کے اسپیکرنے موقف اختیار کیا کہ شیرون فلسطینیوں کے قتل میں ملوث اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی نظرمیں جنگی مجرم تھا، جس کے باعث اس کی موت پرافسوس کا اظہار نہیں کیا جاسکتا ہے۔
اطالوی ذرائع ابلاغ کے مطابق فرانس کےشہر اسٹراس برگ میں ہونے والے اجلاس میں ہالینڈ کے لورینس اور جمہوریہ چیک کے رکن پارلیمنٹ ریچرڈ فالپر کے درمیان شیرون کی موت پر اظہار افسوس نہ کیے جانے پر تلخ کلامی بھی ہوئی۔ چیک ری پبلک کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ہزاروں فلسطینیوں کے خون میں ہاتھ رنگنے والے شخص کے مرنے پر کوئی افسوس نہیں کیا جاسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق شیرون کی موت پر اظہار افسوس کی حمایت اور مخالفت کرنے والوں کے درمیان معاملہ مزید پیچیدہ ہونے لگا تو اس پر پارلیمنٹ کے اسپیکر مارٹن چولٹز کو مداخلت کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں ارئیل شیرون کی موت پرافسوس کے اظہار کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
