(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اٹلی کی سات جامعات سے وابستہ محققین اور اسکالرز نے اسرائیل کے تعلیمی بائیکاٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے ساتھ کیے گئے تعلیمی معاہدے منسوخ کرنے پر زور دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ اٹلی کے 168 اسکالرز نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کا تعلیم سمیت تمام شعبوں میں مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ پٹیشن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے ’تخنیون‘ نامی ریسرچ انسٹیٹیوٹ سمیت تمام جامعات کا بائیکاٹ کیا جائے کیونکہ یہ اسرائیل کے تعلیمی ادارے اسرائیلی فوج کی معاونت کرتے ہیں۔ جو فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔پٹیشن پر دستخط کرنے والے اطالوی اسکالرز کا کہنا ہے کہ تعلیمی شعبے سے وابستہ ہونے کی حیثیت سے ہم جامعات کے اسرائیلی ادارے’تخنیون‘ کے ساتھ تعاون پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ کیونکہ تخنیون نامی ادارہ اسرائیلی فوج کے لیے اسلحہ کی تیاری پرتحقیقات کرتا ہے۔ اس طرح اس ادارے کے ساتھ تعاون براہ بالواسطہ طورپر صہیونی ریاست کےساتھ تعاون کے مترادف ہے اور اسرائیلی فوج کی معاونت فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے مظالم میں حصہ ڈالنے کے برابر ہے۔
رپورٹ کے مطابق اطالوی ماہرین تعلیم اور محققین کی جانب سے صہیونی ریاست کے تعلیمی بائیکاٹ کے مطالبے پر کڑی تنقید کی ہے۔ اسرائیلی حکومت بھی اطالوی اسکالرز کے اس اقدام پر سیخ پا ہے۔
دوسری جانب فلسطین میں اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ نے اس اطالوی محققین کے مطالبے کو حق بہ جانب قرار دیتے ہوئے یورپ کے دیگر ممالک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کے بائیکاٹ کو مزید موثر بنائیں۔
