(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے ایک سابق وزیر سلوان شالوم پرایک خاتون نے جنسی ہراسانی کا الزام عائد کرتے ہوئے سات لاکھ شیکل کے عوض سمجھوتہ کرنےکا اعلان کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں سلوان شالوم پر خاتون کی جانب جنسی طورپر ہراساں کرنےکے الزام کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ زرائع کے مطابق سابق وزیر کےگھر میں کام کرنے والی ایک خاتون جس کی شناخت ’’قارئہ بخت‘‘ کے نام سے کی گئی ہے نے سلوان فیملی کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مسٹر شالوم اسے جنسی ہراسانی کا نشانہ بناتے رہےہیں۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ میں عدالت میں انصاف کے لیے نہ جاؤں تو وہ مجھے چپکے سے 7 لاکھ شیکل کی رقم جو کہ امریکی کرنسی میں اڑھائی لاکھ ڈالر کے لگ بھگ بنتی ہے ادا کردیں۔رپورٹ کے مطابق سلوان شالوم کے خاندان نے خاتون کا دعویٰ اور رقم کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق قائہ بخت کا کہنا ہے کہ وہ تین سال قبل سلوان شالوم کے گھر گئی، جہاں اسے ملازم رکھا گیا مگر اس دوران شالوم نے اسے سرکے بالوں اور پنڈلیوں سے پکڑا اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کا کہنا ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس کے بعد میں نے اس کے بارے میں شالوم کی بیوی گوڈی نیر موزس کو بھی بتایا اور دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو بھی ریکارڈ کرکے میں اپنے پاس رکھی ہے۔
اس پرشالوم کی بیوی نے اس وقت مجھے کہا تھا کہ میں جھوٹ نہیں بول رہی تاہم اس نے مزید سوال جواب سے منع کردیا تھا۔
شالوم کے گھرمیں کام کرنے والی خاتون کا کہنا ہے کہ سابق وزیر نے اسے اس کی مرضی کے بغیر کئی بار چھونے اور جنسی طورپر ہرساں کرنے کی کوشش کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق سابق وزیر کی ملازمہ کی جانب سے شایت پراس وقت کے پراسیکیوٹر جنرل نے نوٹس لیا تھا مگر ملازمہ نے خود ہی عدالتی کارروائی سے انکار کردیا تھا۔
