رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اخبارات نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سنہ 1994 ء میں روانڈا میں ہونے والی نسل کشی بالخصوص ’ٹوٹسی‘ اقلیتی برادری کے وحشیانہ قتل عام کے دوران اسرائیل نے وہاں کی حکومت کو بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کئے تھے، انہیں ہتھیاروں کی مدد سے روانڈا کی فوج نے 100 دنوں میں 8 ہزار افراد کو نہایت بے رحمی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔
اسرائیلی اخبارات میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2014 ء میں اسرائیل کے دو ماہرین قانون ایڈووکیٹ ایٹائی میک اور پروفیسر یئر اورون نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ عدالت سنہ 1994 ء میں روانڈا میں ہونے والے وحشیانہ قتل عام میں اسرائیل کی طرف سے اسلحہ کی فراہمی تفصیلات کو عوام کے سامنے لانے کا حکم جاری کرے۔ دو سال کی مسلسل سماعتوں کے بعد اسرائیلی سپریم کورٹ نے روانڈا کو ہتھیاروں کی فروخت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہ لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی وزارت دفاع نے روانڈا کو خانہ جنگی کے عرصے میں اسلحہ کی فراہمی کی کیس کو صیغہ راز میں رکھنے کی درخواست کی ہے۔ چونکہ یہ ایک اہم ریاستی راز ہے جسے منظرعام پرلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
درخواست گذاروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ سنہ 1994 ء میں تل ابیب نے روانڈا میں نسل کشی کے لیے وہاں کی حکومت کو بھاری مقدار میں ہتھیار فروخت کیے تھے اور ان ہتھیاروں کی مدد سے آٹھ ہزار افراد کو ایک سو دن میں موت کےگھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ مقتولین میں بیشتر بچے اور خواتین تھیں۔
اسرائیلی عدالت کا کہنا ہے کہ روانڈا کو خانہ جنگی کے دور میں اسلحہ کی فروخت کی تفصیلات منظرعام پرلانے سے اسرائیل کے خارجہ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ریاستی مفاد کی خاطر اس اہم معاملے کو صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے۔
