(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) حماس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں 2014ء کی اسرائیل کے ساتھ جنگ میں مردہ قرار دئیے جانے والے مغوی اسرائیلی فوجی کو رہا کرسکتی ہے۔
حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے فلسطینی اسیران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "مزاحمت کاروں کے ہاتھ میں ایسے پتے ہیں جن سے دشمن آپ کو رہا کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔”ماضی میں بھی اسرائیلی فوجی زندہ یا مردہ حالت میں سودے بازی کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔
غزہ میں ہونے والی 2014ء کی جنگ میں ہلاک قرار دئیے جانے والے دو اسرائیلی فوجیوں اورون شائوول اور ھدار گولدن کے بارے میں قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ حماس کی حراست میں ہیں۔ مگر حماس نے ابھی تک ان کی حالت کا اعلان نہیں کیا ہے۔
حماس کے غزہ میں سربراہ اسماعیل ھنیہ نے اعلان کیا تھا کہ القسام بریگیڈز "صیہونی دشمن کے خلاف مستقبل کی لڑائی کے لئے تیاریاں مکمل کررہی ہے” جن میں اسرائیل کی سرحد کے ساتھ سرنگوں کی تعمیر شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سرنگیں اسرائیل کے خلاف ایک ‘سٹریٹیجک’ ہتھیار ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حماس کے جنگجو ٹریننگ میں مصروف ہیں اور جنگ اور مزاحمت کے تمام ذرائع کو اکٹھا کررہے ہیں۔
حماس کے سینئیر رہنما خلیل الحیاء کا کہنا تھا "پچھلے ہفتے کے دوران تباہ ہونے والی سرنگ جس میں ہمارے سات جنگجو شہید ہوگئے تھے، وہی تھی جس کے ذریعے سے القسام نے اورون کو گرفتار کیا تھا۔”
اسرائیل نے حماس پر الزام لگایا تھا کہ وہ 2014ء کی جنگ کے دوران تباہ کردہ سرنگوں کی دوبارہ تعمیر کررہی ہے تاکہ اسرائیل پر تازہ حملے کئے جائیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز حماس کو خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کے خلاف کوئی حملہ نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا "ہم حماس سمیت تمام خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے منظم طریقے سے تیاری کررہے ہیں۔
