(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے ایک انتہا پسند سیاست دان اور فلسطینیوں پر بار بار جنگ مسلط کرنے کا مطالبہ کرنے والے سابق وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین نے دعویٰ کیا ہےکہ آئندہ جنگ کی صورت میں اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ غزب کے قریب واقع یہودی کالونیوں پرقبضہ
کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں شامل انتہا پسند سیاسی جماعت ’’اسرائیل بیتنا‘‘ کے سربراہ نے جنوبی فلسطین کے بئر سبع شہر میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی حکومت حماس کی منصوبہ بندی سے بالکل غافل ہے۔ حماس نے یہودی کالونیوں پر قبضے کی منصوبہ بندی شروع کررکھی ہے جب کہ وزیراعظم خطے میں امن خریدنے کے لیے حماس سے مذاکرات شروع کر رکھے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آوی گیڈور لائبرمین کا کہنا تھا کہ حماس کے عزائم نہایت خطرناک ہیں اور وہ غزہ میں ایک نئی جنگ کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ حماس کے جنگجو کسی بھی پیش آئندہ جنگ کے لیے پوری طرح تیاری کر رہے ہیں۔
لائبرمین کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں حماس ایک بندرگاہ کے قیام کے لیے اس لیے کوشاں ہے تاکہ وہ اپنی مرضی کے میزائل، راکٹ اور دیگر بھاری ہتھیار حاصل کرسکے۔ حماس بھی لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی راہ پر چل رہی ہے۔
اس موقع پر لائبرمین کا کہنا تھا کہ حماس نے جنگ کی صورت میں غزہ کے قریب واقع کم سے کم تین یہودی کالونیوں پرقبضے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو حماس کے سامنے شکست خوردہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی غزہ کے بارے میں پالیسیاں شکست خوردگی کا ثبوت ہیں۔
