رپورٹ کے مطابق یہ فتویٰ شدت پسند سرکردہ یہودی مذہبی پیشوا ’’یتزحاق یوسف‘‘ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ اپنے تازہ فتویٰ نما بیان میں یہودی ربی کاکہنا ہے کہ اس بات سے قطع نظرکہ کوئی فلسطینی کسی یہودی کےلیے خطرہ بن سکتا ہے یا نہیں مگر اس کے پاس چاقو کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ یہودیوں پرحملے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس اس لیے اسے گولیاں مار کر قتل کرنا جائز ہے۔
یہودی ربی کا مزید کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کے علاوہ کوئی عام اسرائیلی شہری بھی چاقو رکھنے والے فلسطینی کو قتل کرنے کا مجاز ہے۔ انہوں نے یہودیوں سے کہا کہ وہ فوجی سربراہ یا سپریم کورٹ سے خوف زدہ نہ ہوں۔ انہیں اپنے دشمن کو مارنے کا حق حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق یتزحاق یوسف نے یہ فتویٰ ہفتے کے روز ایک یہودی معبد میں جمع ہونے والے یہودیوں میں تقسیم کیا جسے بعد ازاں ذرائع ابلاغ میں بھی شائع کیاگیا ہے۔
