یورپی ملک بیلجیم کی ایک عدالت نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے جنگی جرائم کی تحقیقات سے متعلق ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران صہیونی ریاست کو جنگی جرائم کی مرتکب قرار دیا گیا ہے۔
کسی یورپی ملک کی عدالت کی جانب سے صہیونی ریاست کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دینے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں ’’راسل‘‘ نامی عدالت میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے مظالم کی تحقیقات کے لیے ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کے چیف جسٹس بییر گالون نے کہا کہ فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم کے مقدمہ کے ضمن میں جو دلائل اور شواہد سامننے آئے ہیں ان سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ اسرائیلی ریاست نہتے فلسطینیوں کے وحشیانہ قتل عام، انسانیت کے خلاف جرائم، شہری املاک کو بمباری سے تباہ کرنے، اسکولوں اور اسپتالوں جیسے پبلک مقامات کو دھماکوں سے اڑانے جیسے غیرقانونی اور غیرانسانی اقدامات کی مرتکب ہوئی ہے۔ یہ تمام شواہد کسی بھی ریاست، گروپ یا فرد کے خلاف جنگی جرائم کے کیسز کے لیے کافی ہیں۔
کیس کی سماعت کرنے والے ایک دوسرے جج میکائیل منسفیلڈ کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری متحرک نہ ہوتی فلسطین میں کشت و خون کا سلسلہ مزید جاری رہتا اور اسرائیل جنگی جرائم کا مزید بھی ارتکاب کرسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ اسرائیلی فوج نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کی انسانیت کے خلاف سرگرمیوں اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
عدالت میں پیش ہونے والے ایک فلسطینی شہری محمد المغیر نے عدالت کے ریمارکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بیلجیم کی عدالت نے نہایت جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے سچ بات کہنے کی جسارت کی ہے۔ انہوں نے کہا یہ برسلز کی عدالت کے ریمارکس پوری یورپی برادری کے لیے ایک مثال ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ یورپی یونین بھی اسرائیل کے جنگی جرائم کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی کھل کر مذمت کرے۔
برسلز میں الجزیرہ ٹی وی کے نامہ نگار نور الدین بوزیان کا کہنا ہے کہ عدالت فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم کے حوالے سے مزید شواہد بھی جمع کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت گواہوں اور شہادتوں کی تلاش میں ہے جویہ ثابت کرسکیں کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی اکاون روزہ جارحیت میں نہتے شہریوں کا اجتماعی قتل عام کیا گیا۔ سولین کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا اور بلا جواز پبلک انفراسٹرکچر کو بمباری سے تباہ کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں عدالت اسلحہ اور اس کے استعمال کے ماہرین کی رائے بھی حاصل کرے گی جس کے بعد حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
