پاکستان کی قبلہ اوّل بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے ساتھ والہانہ محبت کا عالم یہ ہے کہ سفارتی سطح پر پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات نہیں ہیں، جو انتہائی قابل ستائش عمل ہے۔ فلسطینی سفیر کا کہنا تھا کہ قبلہ اوّل کی آزادی کے لئے پاکستانی حکومت اور عوام بھرپور جدوجہد کرتے ہیں اور کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے قبلہ اوّل اور فلسطینیوں کی جدوجہد کی بھرپور حمایت پر شکر گزار ہیں، جس سے مجھے اور فلسطینوں کو بڑی تقویت ملی۔ فلسطینی سفیر نے بتایا کہ سینکڑوں فلسطینی طلبہ پاکستانی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں مزید ایسے مواقع میسر آئیں۔ پاکستانی عوام کی دلی خواہش ہے کہ قبلہ اوّل کو آزاد دیکھیں اور وہاں انیبا علیہ السلام کی قبور اور مقدسات کی زیارت کر سکیں۔ یروشلم سے مسلمانوں کا دینی اور تاریخی تعلق ہے، جسے یہودیانے کا صہیونی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ فلسطینی سفیر نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ مسلمان آپس میں مشترکات ہونے کے باوجود آج دست و گریباں ہیں۔
فلسطینی سفیر نے نے سوال اٹھایا کہ کیا وجہ ہے کہ دہشت گردوں کو اسلام کے ساتھ نتھی کرکے اسلام کا چہرہ مسخ کیا جارہا ہے، حالانکہ اسلام امن، محبت اور انصاف کا دین ہے۔ یہودی مظالم تمام حدیں پار کرچکے ہیں، زندہ جیتے جاگتے بچوں کو آگ میں پھینکا جارہا ہے، اس پر انسانی ضمیر کیوں خاموش ہے، انسانی حقوق کا دفاع کرنے والی نام نہاد تنظیمیں کہاں ہیں۔ اسرائیل اس قدر مظالم کے باوجود خود کو متاثرہ فریق ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، جس کی بڑی وجہ میڈیا پر اجارہ داری ہے۔ سی این این اور بی بی سی سے لیکر تمام سوشل میڈیا صہیونیوں کے کنٹرول میں ہے۔ اس کے مقابلے مسلمان صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور آپسی جھگڑوں میں مشغول ہیں۔
