رپورٹ کے مطابق ’’اونروا‘‘ کے کرائسز سیل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کی ریلیف ایجنسی نے لبنان میں موجود فلسطینی پناہ گزینوں کی صحت کے شعبے میں امداد کم کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اونروا‘ کی جانب سے یہ اقدام فلسطینی پناہ گزینوں اور ان کی نمائندہ جماعتوں کی جانب سے ایک سو دن کے مسلسل احتجاج کے بعد ان کے مطالبات پورے کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ بیروت میں موجود لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کو پچھلے کچھ عرصے سے اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی کی طرف سے فراہم کی جانے والی امداد کم کردی گئی تھی جس پر پناہ گزینوں نے اقوام متحدہ کے ریجنل ہیڈ کواٹر اور اونروا کے دفتر کا کئی بار گھیراؤ کرنے کے ساتھ ساتھ کئی ماہ سے احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔
طویل احتجاج کے بعد اونروا نے فلسطینی پناہ گزینوں کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امدادی ادارہ پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے ہرممکن کوششیں جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ لبنان میں 4 لاکھ 83 ہزار فلسطینی پناہ گزین اقوام متحدہ کے قائم کردہ کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ان کی تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سمیت ہرطرح کی ضروریات کی تکمیل اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی’’اونروا‘‘ کی ذمہ داری ہے مگر پچھلے کچھ عرصے سے اونروا کی جانب سے بھی یہ بہانا تراشا گیا تھا کہ دوسرے عرب ممالک میں پیدا ہونے والے بحرانوں کے باعث ادارے کو ملنے والی امداد کم ہوگئی ہے۔
