رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں اپنے دورے کے دوران نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے امن مندوب کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے ایشوز کے بارے میں اقوام متحدہ کا موقف واضح اور دو ٹوک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی صحافی محمد القیق کی حالت تشویشناک ہے اور اس کی رہائی میں ٹال مٹول انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہےکیونکہ بھول ہڑتالی فلسطینی کی زندگی بچانے کے لیے اسرائیلی حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔
اپنے دورہ غزہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے میلاڈینوف نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت اور اتحاد و یکجہتی قائم کرنا اور غزہ اور مغربی کنارے کو ایک انتظامی دھارے میں لانے کے لیے اقدامات کرنا ہے۔ دوسرا مقصد غزہ کے جنگ سے تباہ ہونے والے علاقوں کی تعمیراور بحالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں تعمیر نو اور بحالی کے کاموں کے لیے تعمیراتی سامان کی غزہ کو ترسیل میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی دھڑوں کو جمہوری اصولوں کی خاطر آپس میں مل کرآگے بڑھنا چاہیے۔
غزہ کے بارے میں اقوام متحدہ کی ترجیحات کے بارے میں بات کرتے ہوئے یو این مندوب نے کہا کہ عالمی ادارہ غزہ کے تمام اندرونی اور بیرونی راہ داریوں کو کھلا دیکھنا چاہتا ہے۔ انہو میلاڈینوف نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو کے ضمن میں کچھ بہتری ہوئی ہے مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
